Saturday, December 20, 2014

Column on Peshawar Attack!

وہ جو قاتل ہیں میرے بچوں کے۔۔۔!
وینگس

آج کیوں،
توں اے شام رؤ پڑی  ہے،
آج کیوں تیرہ چھرہ اُداس ہے،
شام نے رو کے کہاں،
تیرے پاس توں دل ہے جس کو تھپکی دیکر تو خاموش بھی ہو جائی گی،
میرے پاس وہ دل بھی نہی،
جس کو تھپکی دیکر میں تھوری دیر کہ لیئے ئی سہی غم کو چپ کروا لوں،
میری پوری روح ماتم میں ہے،
جب اُن ظالم ہاتھوں نے میرے بچوں کو قتل کیا،
ان کی چیغیں میں کسے بھولوں،
وہ معصوم جس نے تیری دنیا میں جنم لیا،
تم نے کسے اس کو گولیوں کے بھیٹ چڑہنے دیا،
جلاد بھی بچوں کو مار نے سے لڑکھڑاتا ہے،
لیکن وہ ظالم جن کے ہاتھوں گولیاں چلی،
کیا وہ بھی تیری دنیا میں رہنے والے جسے تھے،
کیا ان کے پاس بھی دل جسی کوئی چیز تھی!
دل تو میرے پاس بھی نہی،
پر دیکھ مجھ کو میری روح آج بھی ماتم میں ہے،
تم مجھ سے پچھتی ہو میں اداس کیوں ہوں؟
جس دھرتی پر بچوں کی مسکراھٹ،
خون کی ندی میں بہا دی جائے،
جس دھرتی پر بچوں کے شرارتوں کو گولیوں سے خاموش کروایا جائے،
جس دھرتی کے گود میں معصوم بچوں کے خوابوں کفن کی چادر اوڑھائی جائے،
تم مجھ سے پچھتی ہو میں اداس کیوں ہوں؟
وہ جو قاتل ہیں میرے بچوں کے،
ان قاتلوں  کا کوئی خدا کسے ہوسکتا ہے؟
وہ انسانوں کی بستی سے کسے آ سکتے ہیں۔۔۔!
میں نے آہستہ سے شام کو کہا،
ہاں! ان کا کوئی خدا کسے ہوسکتا ہے،
ان کے اندر نہ دل ہیں اور نہ ہی تیری (شام) جسی کوئی روح ہے،
جو بچوں کو قتل کرے،
وہ بھلا انسان کی بستی سے کسے آ سکتا ہے،
ای شام تیری اُداسی بھی اس ماں کی جسی ہے
جس کہ غم کو کوئی بھی دلاسا نہی دے سکتا۔ (ہلینا)

وہ صبح کون ساں پیغام لیکر ہم سب کے دروں پہ دستک دنے آئی تھی،  ہم سب کی زندگی کے دروں پہ غم دستک دنے آتا ہے اس کو کبھی بھی اک دن کی چھٹی پسند نہی لیکن اس بار اس کے دستک نے ہر اک کو غم اور دُکھ دیا۔
اک خبر جو بھیانک چھیرہ لیکر آئی "آرمی اسکول میں طالبانوں نے بچوں کو شہید کر دیا" ٹی وی میڈیا پر مائوں کے روتے چھرے، زخمی بچے اور ہر اک اپنے بچوں کو ڈھونڈھتا رہا۔
اس ماں پہ کیا گذری ہوگی جس کو گھنٹوں گذرنے کے بعد پتا چلے کہ اُس کا بچا کفن اوڑہے ابد کی نیند سوچکا ہے۔ اب وہ کبھی بھی واپس نہی آئے گا۔  کتنا بھی ڈانٹو لیکن اس کی واپسی ممکن نہی۔
ریاست کی بوگس پالیسی نے اُس دن مائوں کی روح پہ زخم دیئے۔ اک ماں کی گود میں اُس کا بچا کفن 
لیئے سوچکا ہے۔
Children who have been killed by Taliban in Peshawar Attack. Photo Credit: Online
اس کا کیا قصور تھا ۔۔۔؟ یہی کہ وہ اسکول کے بستے میں اپنی چھوٹی شرارتیں، خواب اور مسکراہٹو کے ساتھ کچھ کتابیں تھی۔۔۔فرشتوں کو قتل کیا گیا کہ ان کا کوئی قصور نہی تھا۔
طالبانوں نے بدلا لیا ہے ان کی خلاف ہونے والے آپریشن کا، ایسا ئی کچھ رپورٹ میں آیا ہے۔
بچوں پہ بندوق رکھ کے، کس قسم کا بدلا لیا گیا ۔۔۔؟ اس سے انہوں نے کچھ بھی فتح نہی کیا۔
لیکن کوئی ان کو بتلائے کہ وہ بندوق کے سہارے بھی، ان بچوں جسے بہادر نہی ہوسکتے۔
اس بات کی گواہی دھرتی بھی دئے گی جس کے سنے پر اُن فرشتوں کا لہوں گرا ہے۔
دنیا ساری رو رہی ہے اور ہر اک ماں کے آنکھوں میں آنسوں ہیں لیکن وہ سارے بچے بھی اُداس ہیں 
کے ان کا کوئی ساتھی کسی راہہ میں قتل کیا گیا ہے۔
جہاں ساری دنیا اداس ہے وہاں ہمارے ریاست کے انوکھے لاڈلے حکمران نواز شریف اور عمران خان ای پی سی (آلپارٹیز کانفرنس) کے پریس کانفرنس دوراں مسکراتے نظر آئے جس صوبے کی سنے پر بچوں کے خوابوں کو خون کی ندی میں بہایا گیا ہو، جس کی ہوائیں اداس ہو اور ماں ماتم کرتے اپنے بچے کو اپنی گود سے جدا کر کے دھرتی کی گود میں سلانے کو جارہی ہو۔
وہاں پہ ان کو دھرنا ۔۔۔دھرنا ۔۔۔اور کنٹینر کا رونا جاری ہو جن کے الفاظ طالبان کے خلاف نکلنے کہ دوران ہچکچاہٹ کا شکار ہو لیکن الیکشن کی دھاندھلی پہ الفاظ سیاسی اخلاقیات کی سرحد بھی کراس کرلیتے ہیں۔  پر ان کی زبان سے دھشتگردوں (طالبان) کے خلاف سخت احتجاج سامنے نہی آتا۔
ٹی وی میڈیا خوش کہ عمران خان نے دھرنا ختم کرکے ملک پر احسان کر دیا۔ لیکن "ای این پی  لیڈر بشریٰ گوہر نے اک پولیٹیک پروگرام  میں درست کہا تھا کہ عمران خان نے دھرنا ختم کرکے کوئی احسان نہی کیا لیکن اس کی حکومت کی پی کی میں ہے اور جوابدہ ہے کے اس کی حکومت نے کیا کِیا؟ اک سال کے اندر 160 دھماکے ہوئے۔"
اور سوال یہ بھی ہے کہ ریاست جو اپنے آپ کو ایٹمی قوت کہتی ہے اس کے ناک کے نیچے اگلیوں پہ گنے چنے طالبان آتے ہیں اور بچوں کو شہید کرتے ہیں۔  دھشتگردی کو ختم کرنے میں حکومت کتنی سنجیدہ ہے اس کا اندازہ ای پی سی میں چل گیا۔
دھشتگردو کو کب فل اسٹاپ آئے گا اس کا انتیظار ہے۔
لیکن ہم سب کبھی نہی بھول سکتے کہ بچوں کو کفن پہنایا گیا۔۔۔ان کے مسکراہٹوں کے دفن کردیا گیا۔۔۔وہ جو قاتل ہے میرے بچوں کے۔۔۔!

1 comment:

  1. This is very bad incident, I dont think pakistan govt will change their course due to these incidents,, they keep continue n blame on Bharat for all their issues,, which is never ending phenomena.

    ReplyDelete