Friday, August 29, 2014

Martyred Journalist Irshad Mastoi: Bullets and Last Goodbye...!

میری لاش پہ کوئی آواز تو دینا۔۔۔!
وینگس

میری لاش پہ کوئی آواز تو دینا،
موت میری محبوبا ہے
وہ کبھی بھی کسی وقت دستک دیکر چلی آئے گی
تم بس اتنا کرنا کے میری لاش پہ آواز دینا
ہم تو ہر روز مرتے ہیں
بس اُس دن میری (موت) محبوبا ملنے آگی
اور پھر میں نا رہوں گا
کیا کریں ہمارہ آخری پیار بھی تو صرف اک وہ نکلا
جو ہماری سانس کی آخری قیمت لگتا ہے
پر ہم اپنے پیار کے ہاتھوں مجبور ہیں
ارے موت تو اپنی محبوبا ہے
پر اس ظالم کے ہاتھوں کسے روپ لیکر آئی ہے؟ (ہلینا)
Martyred Journalist Irhsad Mastoi (File Photo) 

28 آگسٹ کو میں بہت تھک چکی تھی اور جلدی سے سونے کے لیئے جانا چاہا رہی تھی پر اک ٹوئٹ نے مجھ کو پریشان اور درد کے ایک اور دھارے پہ کھڑا کر دیا جب میں نے پڑہا کہ بلوچستان کا صحافی ارشاد مستوئی کو قتل (شھید) کیا گیا ہے۔
ٹوئٹر کی مہربانی کے اس کی وجہ سے ارشاد مستوئی کی خبر منظر پہ آگئی لیکن ملک کی قومی، غیرت اور جمہوریت پسند ترین میڈیا پہ اک غریب اور چھوٹے صحافی کی خبر کسے چلے گی۔ اس ٹی وی میڈیا جس کو کنٹرول کرنے والے دو جمہوری اداکار جلسا لگا کر ہر روز چیغ کے نئیں پاکستان کا اعلان کرتے ہیں اور پھر ایک تاریغ دی جاتی ہے کہ اس بار آج نیا پاکستان نہیں آیا لیکن کل پھر ہم تماشا کرکے نئیں پاکستان کو بُلائیں گے اور دوسری طرف حکومت جمہوریت اقتدار کے خاطر نہی لیکن جمہوریت کے لیئے دن رات پریشان ہے۔
ان کی کوشش ہے کہ جمہوریت مضبوط ہو۔
سندھی میں کہاں جاتا ہے کہ جن دل کھوٹے ہوں تو پھر عذر بھی بہت ۔
جلسے کا تماشا لگانے والے اور حکومت ساروں کو نیا اور جمہوریت والا پاکستان چاہیئے جب ان سب کے دل  ہی کھوٹے ہیں تو پھر ان کا نہ نیا پاکستان آسکے گا اور ناہی جمہوریت مضبوط ہوسکے گی پھر بھی ٹی وی میڈیا پہ تماشا لگا ہوا ہے۔

اس سارے تماشے میں کسی کو پتا بھی چلا کے ان کے اس پرانے اور نیم جمہوری ملک میں اک صحافی ارشاد مستوئی اور اس کے ساتھ دو اور ساتھیوں کو گولیاں مارکے قتل کیا گیا۔ کیا کسی نے اک جملا بھی ارشاد مستوئی کے لیئے کہاں؟
یہ تماشائیوں کا ٹولا کیا دے گا جو اک صحافی کی قتل پہ دو لفظ بھی نہی کہتے! اتنا ہی نہی ۔۔۔ بہت کم آوازیں تھی جو ارشاد مستوئی کے لیئے اُٹھی۔

گر ارشاد مستوئی کسی بڑے چینل پہ کام کرتا یا کسی بڑی عالمی اخبار میں لکھتا تو شاید سب کہتے ہائے صحافت پہ حملا ہوا ہے۔ پھر ٹوئٹر سے لیکر فیس بک تک ہر اک ارشاد مستوئی کے لیئے دو چار الفاظ لکھتا بھلے کسی نے اس کو نہ پڑہا ہو لیکں ریٹوئٹ تو ضرور کرتے۔
لیکن ایسا کچھ نا ہوا گر ایسا نہی ہوا تو ایسا کا مطلب ہم سب کام کو نہی لیکن بڑے اور امیر نام کے پیچھے بھاگتے ہیں ۔ کیوں کہتے ہو ہر انسان برابر ہے؟ کیوں کہتے ہو ہم انسان کے کام کو اہمیت دیتے ہیں؟ آپ اپنے اندر جھاتی پاکر دیکھیں آپ نے کیا درحقیقت غریب اور چھوٹے لوگوں کے کام کو کبھی اہمیت دی ہے!
گر دی ہوتی تو آج ارشاد مستوئی کی شہادت پہ کیوں خاموش رہے؟
ارشاد مستوئی میرہ صحافی دوست تھا میں کبھی بھی اس سے ملی نہی لیکن اس سے فون پر بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ میرہ خیر بخش مری صاحب کا انٹرویو بھی ارشاد مستوئی نے اردو میں ترجماں کیا تھا وہ پہلی کڑی تھی جب اس نے فون کرکے مجھ سے انٹرویوں کی ترجمے کی اجازت لی تھی۔
بلوچستان کے مسئلے پہ ہم بات کرتے تھے اور وہ ہر وقت کہا کرتا تھا کہ آپ (وینگس) جانے لیئے جب ہم کو قتل کیا جائے گا ہمارے خبر کو کوئی اہمیت نہی دے گا۔ بس اک دو دن خبر چلے گی پھر سب بھول جائیں گے۔
ارشاد مستوئی نے بلوچستان کے مسائل پہ ہر وقت بہادری سے آواز اُٹھائی اس نے کسی خبر پر سمجھوتا نہی کیا اور ناہی اس نے کبھی صحافتی اخلاقیات کی حدوں کو پار کیا۔
اس کے صحافتی Pocket  میں ہر وقت خبر ہوتی تھی لیکں اس ملک کی میڈیا میں اتنی ہمت نہی تھی کے اس کی خبر چلا سکے جو لائیو چار چار گھنٹے جلسے دیکھا سکتے ہیں پر ان کے پاس اک خبر شایع کرنے کی کبھی ضرورت محسوس نہی کی پھر بھی ان کی نظر میں اسی صحافت کی اظہارے رائے  بڑی ہے جہاں پر اک صوبے کی خبر نا چل سکے۔
اس میڈیا میں گر کوتا بھی لاہور، کراچی یا اسلام آباد میں مرجائے تو میڈیا اس کو لائیو کوریج دتا ہے لیکن بلوچستان کی خبر نہی چلتی، ارشاد مستوئی ہمیشہ یہ الفاظ کہتا تھا۔
وہ سچ ہی کہتا تھا کہ یہاں پہ ہم لوگوں کی جگہ نہی اور گر آپ سچائی سے کام کریں پھر تو آپ کو اپنے لوگ بھی جگھ نہی دیتے۔
ارشاد کو کسے اب باتوں کے سچائی پہ چلنا تلوار پہ دھار کی طرح ہے۔ یقینن ارشاد کی شہادت پہ وہ ردعمل نہی آیا جو آنا چاہیئے تھا شاید ان کے سچائی کی حد مختلف ہو۔ لیکن آج بھی بلوچستان کی گلیاں اور دھرتی ارشاد جسے بہادر آواز کے لیئے روتی ہوگی۔

آج بھی کسی خاموش موڑ پہ کھڑہ نوجوان ہاتھ میں خبر لیکر سوچتا ہوگا کہ اب کسے کے پاس جاؤں جو اسکی درد کو شایع کرے؟ آج پھر اک آواز خاموش کی گئی  انہوں نے گولیاں چلاکر اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن ان کو کوئی جاکر بتائے کہ وہ کتنے کمزور ہے ہاتھ میں بندوق لیکر کوئی بہادر نہی ہوتا لیکن جو دل میں درد اور سچائی سے دوسروں کے درد پہ آواز اُٹھائے پر اپنے درد کو تھپکی دیکر کہے تم سے پھر بات کروں گا آج میرے دل میں ٹھرجاؤں ۔

ان کو اک گولی نہی مار سکتی ۔ ارشاد مستوئی زندھ ہے کیوں کے وقت کی دیوی نے ہم سے کہاں ہے کہ وہ ہر اس آواز کو زندھ رکھتی ہے جو اک گولی سے خاموش کرائی گئی ہو۔ ہمارہ وقت کی دیوی پر یقین ہے ۔
اس یقین کو رہنے دو کے ہم (صحافی) اپنی جنگ لڑتے رہیں۔
مجھ پتا نہی میں کیا لکھ رہی ہوں بس آج ارشاد کی یاد جو درد اور دُکھ سے بھری پڑی ہے۔ 28 آگسٹ کو اس کا آخری میسیج آیا تھا:
Last message by Journalist Irshad Mastoi sent me on WhatsApp on August28, 2014
ارشاد مستوئی پر جب گولیاں چلائی گئی اس وقت اس نے اپنی دو بچیوں اور بیٹے کے لیئے کچھ تو سوچا ہوگا جو اس کے خون کے ساتھ بیہگیا پر درد پھر بھی پیچھے اس کے گھر والوں کے روپ میں اب بھی موجود ہے ۔
آج ارشاد مستوئی کی شہادت پہ کچھ آوازیں ہیں لیکن تماشوں کو کان لگا کر سونے والے اک معصوم اور بہادر صحافی کی شہادت کو کون سُنے!!!

ان کے پاس کان ہیں لیکن سب سُن نہی سکتے کے بلوچستان کے سینے پہ اک اور صحافی کی لاش گرائی گئی ہے پھر بھی صحافت کی آزادی زندھ باد ۔ جب کے صحافت کے کندھوں پہ ارشاد مستوئی کا جنازہ ہے پھر بھی اتنی خاموشی ۔۔۔ کوئی آواز دے کہ اس کو کس نے قتل کیا؟ 

No comments:

Post a Comment