Saturday, August 31, 2013

Aseefa Bhutto & an old lady


اک درد جو اس کی آنکھوں میں۔۔۔!
وینگس
آج پھر درد نے دستک دی ہے
کس کو بتائے اپنے درد کی کتھا
ہم جو ہر روز زخمی دل کے ساتھ سوتے ہیں
اور اس درد کا کوئی مرہم نہی
کبھی تو اس درد کو کوئی جلاوطن کرے
کہیں سے خوشیوں کی تھوری سی
بوند لیکر آئے
کہ، آج میرے ٹوٹے ہوئے درد پہ پھر سے درد نے دستک دی ہے ۔ (ہلینا) 
Source: online photo Aseefa Bhutto while visiting Flood affectees Camp
 تصویر کی اک اپنی زبان ہوتی ہے اس کو وہی سن سکتا ہے جس کے سنے میں دل درد کی کشتی پہ سفر کرتا ہو۔ مجھ اس بات کا اندازہ نہی شاید ہو بھی کے آصفہ کی اک بھوڑی اماں کے ساتھ لگئی تصویر پہ کتنے لوگوں نے تھوری دیر رک کے سوچا ہوگا یا پھر روایتی انداز سے فیس بک کی دنیا میں جاکر پسند کے آپشن پر کِلک کیا اور کتنو نے شاید مخالفت میں میسیج دیئے ہوں۔
اسی روایتی انداز کی سیاست ہوتی ہے پر کوئی دل اور آنکھوں کی بات کیوں نہی سنتا۔۔۔!!! میں ابھی تک الفاظ کی دنیا میں خاموش کھڑی ہوں اور سوچ رہی ہوں کے اس تصویر میں جو آنکھیں ہے ان پر کیا لکھوں؟!
اک وہ آنکھیں جس نے زندگی کا طویل سفر کیا ہے اور درد اس کی زندگی کی گود سے کبھی نہی بھاگا صرف اتنا ہی نہی ان بھوڑی آنکھوں نے تو شہید بینظیر بھٹو، شہید مرتضیٰ بھٹو سے لیکر سب بھٹوز  کو دیکھا ہے۔
آج اس کے سامنے پھر سے نوجوان لڑکی آصفہ بھٹو کھڑی ہے۔ آصفہ کے حصے میں آنا والا غم خونی سیاسی تلوار کے سبب ہے جس نے ان کی مما اور عوام سے لیڈر ہمیشہ کے لیئے لے لیا۔
قتل کرنے والے ہاتھ تاریخ کی آنکھوں سے بچ نا پائینگے گر ان کو ریاست کی آنکھیں اندیکھا کر بھی لی تو کیا ہوا۔۔!
مجھے اس بات کا پتا ہے کہ یہ الفاظ پڑہنے کے دوران ہم پر ای بی سی پارٹی کی کیمپ کا ٹھپا لگیا جائے۔  لیکن آپ کسی کو اپنی سچائی بتا نہی سکتے ان کی نظر میں ہم حقیر ہیں پر کیا کبھی انہوں نے سوچا ہے کہ ہم لوگ لفظوں کو بازار میں بیچا نہی کرتے لیکن ہاں اک دل کی صدا سنتے ہیں۔
کیوں کے ہماری خالی ہاتھوں میں صرف دل کی وراثت ہے کمسکم اس پہ تو الزام نہ لگائے۔
مجھ ان الفاظ کا سہارا اس لیئے لینا پڑا کیوں کے ہمارے ملک میں روایتی انداز سے چیزوں کو لیا جاتا ہے اور انسانوں کی سوچوں پہ مہریں لگا کر ان کو اپنی مرضی سے خانوں میں بند کرکے کسی کونے میں ڈال دیا جاتا ہے آپ کتنی بھی دستک دیں وہ نہی سنے گے کہ آپ کیا کہے رہے ہیں اور آپ کی بات کا اصل روح کیا ہے؟
تو میری بات کی اصل روح تصویر ہے۔ اس تصویر میں مجھ کو دونوں کی آنکھوں میں درد نظر آرہا ہے۔ مجھ اس بات کا انداز نہی کے بھوڑی اماں نے آصفہ سے کیا بات کی؟
کیا اس نے اس کو سیلاب میں اپنے گھر کی بربادی کی داستاں سنائی ہوگی اور شکایت کی ہوگی کے کسی بھی حکمران نے مدد نہی کی یا پھر آصفہ کو کچھ اور کہا ہوگا؟
کیا آصفہ اِن غریب لوگوں کے درد کو محسوس کر پائی جن کے گھر اب برباد ہوچکے ہیں اور حکومت کے حکمران صرف بات کرنے تک ہیں یہ لوگ جو اب سیاسی یتیم ہوچکے ہیں۔  
لیکن دونوں کی آنکھوں میں کوئی جھاتی پاکر دیکھے تو یہ کہے سکتا ہے کہ دونوں کے حصے میں آیا ہوا درد اس بےرحم سیاست کی وجہ سے ہے، جو کبھی بھی جلاوطن نہی ہوتا اور کسی نا کسی بہانے سے ٹوٹے ہوئے دلوں کے در پہ دستک دیتا ہے۔

No comments:

Post a Comment