Thursday, July 18, 2013

Malala Yousafzai





ملالہ یوسفزئی۔۔۔!
وینگس
تم مجھ سے کبھی یہ سوال ناکرنا،
کہ زندگی کو صلیب پہ کیوں لٹکایا جاتا ہے،
یا پھر ہم سب دھول لیکر اپنے چہرے پہ کیوں لگاتے ہیں
کیوں کہ میرے پاس کیسی بھی سوال کا کوئی جواب نہی
لیکن ھا تم اک بات ذہن میں رکھنا،
جب تم دنیا میں ناحق دیکھو،
تو تم ان کے بیچ میں لکیرین نا کھینچنا،
لیکن ہر درد پہ آواز اُٹھانا،
اور ہر ایک ناحق کے خلاف اپنے پاؤں کو آگے کرنا،
ہماری دنیا میں زندگی صرف صلیب یا چہرے پہ دھول نہی ڈالتے،
لیکن ہماری دنیا میں ناحق کو بھی ڈبو (باکس) میں ڈالا جاتا ہے،
انسانیت کا بٹوارا کیا جاتا ہے،
اور تم کبھی بھی انسانیت کا بٹوارا نہی ہونے دینا۔۔۔(ہلینا)
 پاکستان میں گر کوئی نئی بات ہوسکتی ہے تو پھر وہ یہ کے انصاف اور جمہوری انداز سے حق مل سکے۔ ہمارے پاس ہر روز اور ہر پل ناحق دستک دیتا ہے۔
کیا پاکستان میں عورتوں کے ساتھ ظلم ہونا کوئی نئی بات ہے؟ ہماری اخباریں اُٹھا کر دیکھیں ان میں ہر باکس ظلم اور ناانصافی کی خبروں سے بھرا پڑا ہے۔ اس ملک میں مذہب کے نام پہ ہندوں لڑکیوں کو اُٹھایا گیا اس وقت ملک کی کون سی میڈیا، پیاری سول سوسائٹی یا انسانی حقوق کے علمبرداروں نے آواز اُٹھائی؟ جو لڑکیاں سپریم کورٹ تک گئی ان کو کون سا انصاف ملا؟
وہ مخالف پارٹی والی جو آج اقتدار میں ہیں انہوں نے بلوچستان کی ناری دیپا دیوی کوۜ کون سا انصاف دیا؟
عوام کے درد پہ کسی نے ایمانداری سے آواز اُٹھائی ہے؟ میں یہ سوال پاکستان سے لیکر پوری دنیا کی ہر اس مہذب سوسائٹی سے کرنا چاہتی ہوں جو بڑی بڑی دعوائیں کرتے ہیں۔
جب درد اور ناحق کو امیر ڈبے میں پیش کر کے دنیا کی مارکیٹ میں بیچا جائے تو پھر درد commodity بن جاتا ہے امیروں کی دنیا میں ہلکی سی خراش پڑ جائے تو انسانیت خطرے میں پڑجاتی ہے اور جب غریبوں کی جھوپڑیوں کو جلایا جائے تو پھر عذر پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے پاس ناانصافی اور ناحق موجود ہے ان کو حل کرنے کے لئیے اک بھتر سماج کی ضرورت ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کے اک بہتر سماج جُڑ سکے۔
آپ اور ہم کو ردعمل نظر نہی آئے گا اس قسم کے دہرے معیار موجود ہیں اس لیئے ہی ناحق داداگیری سے گھوم رہا ہے۔
اس سارے suffocated ماحول میں کچھ آواز ایسے ہیں جو کوشش کرکے آگے آتے ہیں کچھ آوازوں کو پلیٹ فارم ملتا ہے اور کچھ کو نہی ملتا، لیکن اس کا مطلب یہ نہی ہونا چاہیئے کے اُن مثبت آوازوں کو سپورٹ نہ کیا جائے۔
Malala Yousafzai - photo via online.

ملالہ یوسفزئی!
جس نے کوشش کرکے اپنے آپ کو بھتر کام کرنے کے لیئے جوڑا ہے اُس کی اس کوشش سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ملالہ پہ چلی ہوئی گولی یقینن پہلی گولی نہی ہے اس سے پہلے بھی کتنی معصوم لڑکیوں پہ گولیاں چلی ہے۔ اس جسے کتنی آوازیں ہے جو بھتر سماج جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان سب کی کوششوں سے کون انکار کرتا ہے؟!
ملالہ، گر سپورٹ حاصل کر رہی ہے تو اس کو سپورٹ کیون نہی کیا جائے؟ ملالہ کو سپورٹ کرنے کا مقصد کے ان جسی دوسری کوششوں کو سپورٹ کیا جائے کہ وہ سماج میں آگے آئیں۔
ہم سب اس حقیقت سے انکاری نہی ہیں کہ بہت سے آوازوں کو مثبت سپورٹ نہی ملی تو پھر کیا ملالہ کی آواز اور کوشش کو سپورٹ نہ کرنا چاہیئے؟؟؟
سوال یہ اُٹھنا چاہیئے کہ انسانیت کے علمبردار اس وقت باہر کیوں نکل آتے ہیں جب کسی کیس پہ میڈیا کی اسپاٹ لائیٹ پڑتی ہے؟
اس ساری ڈوڑ میں ملالہ کی آواز کو سائیڈ لائن نہی کرنا چاہیئے۔  یہ ناانصافی ہوگی کہ ملالہ کو اس لیئے سپورٹ ناکرنا چاہیئے کہ دوسری لڑکیوں کو پلیٹ فارم  نہی ملا؟
تو پھر کیا آپ کو ملالہ میں وہ لڑکیاں نظر نہی آرہی جو اپنی جگھ پہ اک بھتر سماج کی کوشش کر رہی ہیں؟
ملالہ ہمارے سماج کا حصا ہے جس نے اک کوشش کرکے آگے قدم اُٹھایا ہے ایسے قدم کو سپورٹ کرنا چاہیئے۔
اس سارے ماحول میں اک بات نہی بھولنا چاہیئے کہ ہم جس ملک میں رہتے ہیں جہاں تعلیم سے زیادہ بجیٹ آرمی پہ لگائی جاتی ہے

اور 2.3% تعلیم پہ لگائی جاتی ہے اور تو اور تعلیم پہ توجہ  زیرو پرسنٹیج ہے۔
ملالہ پہ تنقید کرنے والے اس ملک میں اس لیئے بھی ہیں کہ اس نے یو این او میں شہید بینظیر بھٹو کا نام لیا۔ ان سیاسی پارٹیوں کو سوچنا چاہیئے کہ ہر اک چیز کو سیاسی مفاد پرستی کے چشمے سے نہی دیکھیں۔
 اقرار کرنا چاہیئے کہ شہید بینظیر بھٹو کی زندگی اس ملک میں عورتوں کے لیئے inspiration  رہی ہیں، جب کہ سیاسی پالیسیز کو اک سائیڈ پہ رکھتے ہیں لیکن شہید بینظیر بھٹو کی ٹف زندگی سے کوئی انکار کر سکتا ہے؟
ہمارے سماج میں بہت بہادر آواز ہیں جن کو تعلیم کا سہارا ملنا چاہیئے۔
جس سماج میں اسکول بند ہوں، جس سماج میں لائیبرریاں بند ہوں، جس سماج میں بچوں کے ہاتھ سے کتابیں چھینی جاتی ہوں وہاں پہ ملالہ جسی آواز کو ہمت افزائی کرنا چاہیئے۔
گر انسانیت کا بٹوارا کیا گیا تو پھر دنیا جہنم بن جائے گی جہاں پہ زندگیاں جنم تو لیں گی لیکن صرف مرنے کے لیئے۔
ہم سب کو سوچنا چاہیئے کہ ہم سب انسانیت کے لیئے کیسے قدم اُٹھا رہے ہیں؟
ملالہ کی کہانی ایک بار پھر پاکستان حکومت سے پوچھتی ہے کہ آپنے تعلیم کے لیئے کیا کر رہے ہیں؟ آپ کی حکومت نے معصوم بچیوں کے تحفظ کے لیئے کون سے اقدام اُٹھائے ہیں؟ دھشتگردی کو کسے نمٹاجائے گا؟ جب پنجاب کی صوبائی حکومت جمعت الدعوہ کے لیئے بجیٹ رکھتی ہے؟
ہمارے بچے اسکول کسے جائے گے جب اسکولوں پہ تالے ہونگے؟



No comments:

Post a Comment