Tuesday, June 18, 2013

Poor Children & End Poverty?

ان کی آنکھوں میں جھاتی پاکر دیکھوں۔۔۔!
وینگس
18 جون 2013 کی صبح ہر روز کی طرح دستک دے نے آئی تھی اور ہم لوگوں کے پاس اس کی دستک قبول کرنے کے سوا اور چوائس نہی، آپ کو قبول ہو یا نہی۔
گر ایماندارانہ بات کی جائے تو ہم سب اپنی زندگی کب اپنی شرطوں پہ گذارتے ہیں۔۔۔؟!

خیر واپس آتے ہیں اپنی بات پہ کے آخر آج کِس کی بات ہم کریں گے۔ جب کسی بھی ریاست میں روایتی انداز سے سیاست کو گھسیٹا جائے تو اس میں غریب عوام ئی رگڑی جاتی ہے۔

پاکستان کی سیاست میں بھی اسی طرح کا روایتی انداز کی سیاست رائج ہے اور اس جانور کی طرح جس کی آنکھوں پہ پٹی بھاندھی جاتی ہے جو مسلسل اک ہی دائرے میں چکر کاٹتا رہتا ہے اس کو کیا پتا کہ اس کا پورا وقت اِک ہی دائرے میں گذر رہا ہے اور پاکستان کی سیاست بھی اسی ہی دائرے میں چکر کاٹتی رہتی ہے۔
جب آپ کو پتا ہو کہ جس ملک میں آپ رہتے ہو اس میں روایتی انداز کی سیاست ہے اور امیر لوگ سیاست کے نام پہ عوام کی اٌمیدوں کا سودا لگانے آتے ہیں۔
سیاست کی کرسی پہ بھٹنے والے چھروں نے کبھی تاریخ کو پڑھا یا ان کو اتنا پتا بھی ہے کہ عوام ہر رات کو سونے سے پہلے کون سے خواب بُنتے ہیں اور پھر اپنے ہی ہاتھوں ان کو دفن کرتے ہیں اس کا کرب کیا ہوتا ہے۔۔۔؟!

ایسے ماحول میں آپ کیا اُمید کرتے ہیں کہ اخبار کیا آپ کے لیئے کون سی خوشخبری لائے گی؟ یا پھر 18 جون کی اخبار میں کیا دیکھیں کے ملک کے صوبوں نے عوام کے درد کو ختم کرنے کی کونسی دوا دی بھی ہے یا دوا کے نام پہ اک بار پھر دردمند عوام کو انتظار فرمائیے کا بورڈ دیکھایا گیا ہے؟

آج پتا نہی کے اخبار پڑھنے کا دل نہی چا رہا تھا لیکن ہم جن کے پاس کو بھی چوائس نہی پھر بھی اخبار ہاتھ میں اُٹھا لی اس اُمید کے ساتھ کے شاید امیر سیاست کے رکھوالوں نے غریب عوام کے ہاتھوں میں کچھ تو دیا ہوگا۔

اخبار کا پہلا پیج صوبائی حکومتوں سے بھرا ہوا ہے جس میں واعدے کیئے گئے ہیں کہ عوام کی تقدیر بدل دے گے ۔۔۔ آخر امیروں کی سیاست ہمشہ مستقبل کے جملوں پہ ہی کیوں کھڑی رہتی ہے؟

اس بار جو وہ کہتے ہیں کہ عوام کی تقدیر بدل دیں گے ان سے جاکر یہ پوچھوں کے کیا انہوں نے اخبار کے پچھلے صفحے پہ یہ تصویر دیکھی ہے؟
Photo via Daily Ibrat newspaper on 18/June/2013


ان کی آنکھوں میں جھاتی پاکر دیکھوں جن کے درد مندانہ چہرے اس ملک کی حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ کیا ہمارا بھی کوئی حق ہے؟
کیا ہمارے خوابوں کو اُمید کا سہارا ملے گا یا پھر ہمارے خوابوں کو قبر کا سہارا دیکر دفنایا جائے گا۔۔۔؟

ملک کی حکومتوں نے انہی لوگوں کے لیئے ہر سال بجیٹ رکھی لیکن ان معصوم لوگوں کی قسمت ان پہ کب مہربان ہوگی یا پھر ان کی ساری زندگی ایسے ہی گذر جائے گی؟
اس تصویر میں بچے اپنے بچپن کو خوشیوں میں نہی دوڑا رہے پر ان کا بچپن دُکھ کے لہر پہ چل رہا ہے۔ ان کی خوشیاں کو لاکر دے گا؟
ان کے روٹھے ہوئے چہروں پہ مسکراہٹوں کی ماک کون ڈھوکر آئے گا؟
ہمارے دیس میں تو سنتا کلاز بھی نہی جو بچوں کے ٹوٹے ہوئے دروں کے آگے اک گفٹ رکھ جائے۔

لیکن اس تصویر کو کون دیکھے گا؟ ان کے درد کو کون سنے گا؟
کیا امیر سیاستدان کے پاس انتا وقت بھی ہے کہ وہ ان کی آنکھوں میں جھاتی پاکر دیکھ سکیں؟

میں اس کشمش میں ہوں کے آخر یہ دنیا کسی دنیا ہے؟ جو امیر اور غریبوں میں بٹی ہوئی ہے؟ گر ان سب کا خدا اک ہے تو پھر یہ بٹوار کیوں؟ یا پھر اس دنیا کی طرح خدا بھی امیر اور غریب کی طرح بٹے ہوئے ہیں؟ گر ایسا نہی تو پھر کیوں غریب اور معصوم بچے آنکھوں میں درد لیئے بھیٹے ہیں؟
کیا اوپر والے نے ان کی آنکھوں میں جھکر دیکھا ہے؟
مجھے ہلینا کہ لفظ یاد آ رہے ہیں:
آج پھر میری گلی میں سے اک بچہ خاموش ہوکر گذرا ہے،
اس کی آنکھوں میں کچھ بھی نہی،
اس کی آنکھوں میں شاید بہت کچھ ہو،
وہ جو کسی سے شکایت نہی کرتا،
آج اس نے آسماں کی طرف دیکھ کر بڑی صدا کی ہے،
آج آسماں کتنے زور سے برس بڑا ہے؟
ارے!
کہیں آسماں آج اس بچہ کی صدا مارنے پہ رو تو نہی رہا؟
آخر اس کی صدا میں کیا تھا؟
جو ہم نہ سمجھ پائے۔۔۔!

No comments:

Post a Comment