Thursday, June 6, 2013

From Jiah Khan to Paris Jackson!



اک یتیم دل جو مارا گیا۔۔۔!

وینگس
آج پھر کافر دل نے سوچہ ہے کہ اس دنیا سے کچھ تو پوچھ لئے، کیا تم کو رونا نہی آیا جب کوئی یتیم دل اپنے آپ کو موت کے ہاتھوں سپرد کر رہا تھا؟

کیا تم اس وقت بھی اسے ہی خاموش اک دیوی کی طرح دیکھتی رہی؟ مجھے یاد ہے جب میں نے اک بار لکھا تھا کے آسماں کے تلے صرف وہ بچے یتیم نہی ہوتے جن کے ماں باپ نہی ہوتے، یا پھر وہ بچے جن کو کچھ مرد اپنی شناخت نہی دتے اور ان بچوں کے ماتھے پہ لاوارثوں کا ٹھپا لگایا جاتا ہے، غلام تاریخ سے انسان نے دامن نہی چھڑ وایا، جو اک قدرت کی زندگی کو لاوارث کہا جاتا ہے بچہ تو ماں کی اولاد ہوتا ہے۔۔۔!
کیا وہ بچہ جس کے ماتھے پہ لاوارث کا ٹھپا لگایا جاتا ہے وہ نوں مہنے پہلے  یا اک سال کے بعد پیدا ہوتا ہے؟
آج میں یتیم بچوں پہ نہی لکھ رہی مگر لاوارث لفظ کو چھیڑنے کا مقصد یہ ہے کے جو لفظ انسان کو غلام تاریغ سے وراثت میں ملے ہیں ان کو انسانوں پہ تھوپ کے ان کو اپنا غلام بنایا ہے۔
گر دیکھا جائے تو جو دیوار پہ لکھا ہوا ہے اس کو کسی کے دل پہ بھی پڑھ لیا جائے تو کیا ہے؟ اس دھرتی کے سینے پہ کتنے یتیم اور لاوارث دل ہیں جن کے پاس رشتے تو ہے لیکن وہ رشتا نہی جو دل پہ دستکے دے، وہ چہرا نہی جو دُکھی چہرہ پڑھ سکے۔
کبھی سوچہ بھی ہے کہ ہم سب کیتنے یتیم اور لاوارث ہیں۔۔۔؟
انسان کو اس بھری دنیا میں کیا چاہیئے؟ صرف پیار اک انسان دوسرے انسان سے چار الفاظ مگتا ہے اور ہم لوگ جو انسانیت کا ڈھول بجاتے ہے، ہم جنہوں نے جوکرز کی طرح ماکس پہنے ہوئے ہیں ہماری امیر جیبوں میں چار الفاظ بھی نہی ۔۔۔! وہ اک بوڑھی عورت ہم سب کی مدر ٹریسا نے کتنے لوگوں کا ہاتھ تھاما تھا، کتنی یتیم دلوں پہ اپنے پیار کا مرہم رکھا تھا۔
ہم جو مدرٹریسا جسی لیڈی سے کچھ نا سیکھ پائے۔۔۔!
لیکن آج جب ہمارے کانوں پہ جب خبر پڑتی ہے یا سوشل نیٹورکز پیغام سیکینڈز میں آجاتا ہے تو اس پر ہمارہ ردعمل کیسے ہوتا ہے؟
افسوس ۔۔۔ خوشی ۔۔۔ غصے ۔۔۔ یا احتجاج ۔۔۔!
اس خبر کے پیچھے کیسی نے دُکھ کو نہی دیکھا، جیسے ٹریئفک کی بھیڑ میں ہم سب اداس بیچے کو نہی دیکھ پاتے۔ اس طرح ہم خبروں کی بھیڑ میں ہم خبر کے پیچھے چھُپے درد کو نہی سُن پاتے ہیں۔
Late Jiah Khan - online Photo

جیا خان جو اس بار بریکنگ نیوز پہ آ گئی میڈیا اور لوگوں نے جیا خان کو یاد کیا۔۔۔ لیکن جیا کیوں خبر بنی؟  کیا اس کو کوئی بڑا ایوارڈ ملا تھا، نہی جیا خان   نے اپنی زندگی کے آگے فُل اسٹاپ لگا دیا جس کو ہم سب لوگ خودکشی کا نام دیتے ہیں اور دوسری سائیڈ پہ پیرس جیکسن جو 15 سال کی بچی ہے جس کا فادر مائیکل جیکسن  کامیاب ترین سینگر تھا اس کی بٹی جب ٹوئٹر سوشل نیٹورکنگ پہ لکھتی ہے کہ کیوں آنسوں نمکیں ہوتے ہیں؟ اس ٹوئٹ کو کتنے لوگوں نے ری-ٹوئٹ کیا ہوگا!
Paris Jackson-Online photo
لیکن کسی نے بھی اس کے اندر کے غم کو جانا؟ پیرس جیکسن نے اپنی نبض کاٹ دی، آج وہ اسپتال میں ہے۔
خودکشی بزدلی یا بھادری میں اس وقت اس پر بات نہی کروں گی۔ مگر جب کوئی اپنی زندگی پر خودکشی کے دستخط کرتا اس وقت دنیا کے پاس اتنا وقت نہی ہوتا جو دو پل کے لیئے ہاتھ بڑہاکر اس کو تھامیں، آج دنیا نے پڑی ترقی کی ہے لیکن دنیا کیوں دو پل دینے سے کنجوسی کرتی ہے؟
کسی انسان کو تنہاء چھوڑکر اس کی ہر امید کو ختم کیا جاتا ہے۔۔۔!
اب کوئی کتنے بھی لفظ جوڑے کے جیاخان یا پیرس جیکسن کے مسائل کیا تھے؟ ھزاروں لفظوں جو آج ہم ان پر لکھ رہے ہیں ان میں سے چار الفاظ (پیار) کے نہ دے پائے۔۔۔!
جیا خان اور پیرس جیکسن کے قدم پہ سیاسی تجزیانگار یاسمین منگی نے اپنے خیال کا اظہار کیا کہ "ان معصوم لوگوں کے اٹھائے قدموں کو ہمیں سنجیدگی سے دیکھنا چاہیئے کہ آخر یہ عمل امیر کلاس میں زیادہ کیوں ہوتا ہے؟
بہت سی نیوز ہمارے پاس پھچ جاتی ہیں اور زیادہ تر نیوز پردے کے پیچھے رہ جاتی ہیں۔ زیادہ تر امیر طبقا ڈرگس لتا ہے جس میں کمرشل کی دنیا یا پھر بڑے نام رکھنے والے لوگ اپنے آپ کو فٹ رکھنے، ایکٹو رکھنا یا آرام کے لیئے ڈرگس جسی دوائیں استعمال کرتے ہیں، وقتی طور پہ وہ فٹ رہتے ہیں لیکن ان کی ذھن کی قوت کمزور ہوجاتی ہے اور وہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں جس کی وہ جہ سے ان کے پاس حالت کا مقابلا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مس یاسمین منگی نے کہا کہ اسے وقت میں ان کو دوسرے انسان کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے گر ناملے تو پھر قدم اُٹھا دیتے ہیں، کیوں کہ ذہنی ڈپریشن کی وجہ سے وہ اپنے آپ پے قابو نہی رکھ پاتے۔ کمرشل دنیا میں ڈرگس لینے والوں کے لیئے گر میں لفظ کمرشل ڈرگس استعمال کروں تو غلط نہی ہوگا۔ اس لیئے حکومتوں کو کمرشل ڈرگس کی خریداری پہ سخت پالیسی بنانی چاہیئے ورنہ کمرشل ڈرگس کی وجہ سے لوگ ڈپریشن کا شکار ہونگے، مس یاسمین منگی نے خیال کا اظہار کیا۔"
آن لائن ڈیٹا کے مطابق کہ 486  drug-related deaths  نامور شخصیات ڈرگس کے سبب خودکشی یا گذر گئے جب کہ یہ ڈیٹا پرانی ہے گر اس میں نئیں کیسز شامل کیئے جائے تو بہت ہوجائے گے۔
حکومتیں سرمائیداری کی جب پہ ہاتھ کسے ڈالے گی اور اس کو کمرشل ڈرگس کو روکنے کے لیئے کیا قدم بھی اُٹھائے گی؟
آج کی دنیا کمرشل بن چکی ہے اس کمرشل گلی سے گذرنہ بہت مشکل کام ہے اور وہ بھی اس انسان کا جو بہت حساس ہو جس کی حساسیت کومل کے قطرے سے بھی بہت زیادہ حساس ہو۔
آج جو ہمارے کندھوں پہ معصوم جیاخان کی لاش پڑی ہے یا پھر پیرس جیکسن ہاسپیٹل کے بیڈ پہ پڑی ہے اور سب لوگ جنہوں نے اپنی زندگی پہ خودکشی کے دستخط کیئے۔
وہ سبھی یتیم دلیں آج اس کمرشل اور امیر دنیا سے سوال کرتی ہیں کہ کیا کچھ پل نہی ہے  کہ کسی یتیم دل کے درد کو سُن لینا؟
ہم جو ریاست کی دیوار پہ لکھے ہر لفظ پڑھ لتے ہیں لیکں یتیم دلیوں پہ لیکھے دو الفاظ بھی نہی پڑھ سکتے؟
اس سوال کا جواب آج میں پڑہنے والوں پہ چھوڑتی ہوں۔

1 comment:

  1. buhut khoob Veengas,aisay mohzoh per lekhna hi kamal hai

    ReplyDelete